تبع تابعی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - وہ مسلمان جس نے (بحالت اسلام) تابعی کو دیکھا ہو۔ 'صحابی، تابعی، تبع تابعی اور قیامت تک جو بھی اسلام لائے - اس معیار پر اترتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، مسلمان کون ہے، ١٨ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'تبع' کے ساتھ ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل تابع لگایا گیا ہے اور آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگائی گئی ہے۔ متغیر صورت میں 'تابِعِین' 'تابع' کی جمع ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٦٧ء کو 'نورالہدایہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ مسلمان جس نے (بحالت اسلام) تابعی کو دیکھا ہو۔ 'صحابی، تابعی، تبع تابعی اور قیامت تک جو بھی اسلام لائے - اس معیار پر اترتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، مسلمان کون ہے، ١٨ )